menusearch
muntazer.ir

نشست علمی با رکن اسلامی نظریاتی کونسل و مدیر محترم مدرسه امام خمینی میانوالی

۱۴۰۰/۱۰/۵ یکشنبه
(0)
(0)
نشست علمی با رکن اسلامی نظریاتی کونسل و مدیر محترم مدرسه امام خمینی میانوالی
نشست علمی با رکن اسلامی نظریاتی کونسل و مدیر محترم مدرسه امام خمینی میانوالی

نشست علمی با رکن اسلامی نظریاتی کونسل و مدیر محترم مدرسه امام خمینی میانوالی

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے سابق رکن اور امام خمینی ٹرسٹ کے سربراہ بزرگ عالم دین علامہ افتخار حسین نقوی نے مدرسہ امام المنتظر قم میں طلاب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے میں ملاقات اور طلباء سے گفتگو کرنے کا موقع فراہم کرنے پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہاکہ اس بابرکت محفل میں ہمارے انتہائی مہربان بھائی علامہ قاضی نیاز حسین نقویؒ کو بھی یاد کرتے ہیں ان کی بہت ساری خدمات ہیں ان کی رحلت پاکستان اور خصوصاً ملت تشیع کے لئے عظیم نقصان ہے اور علامہ قاضی نیاز حسین نقویؒ جیسے بہادر اور نڈر عالم دین کی ملت اسلامیہ اور پاکستان کو ضرورت تھی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تمام تر مشکلات جہالت کی وجہ سے ہیں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اقتصادی اور دیگر میدانوں میں آج ہم پیچھے ہیں،ہمیں اس اہم میدان میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

علامہ افتخار حسین نقوی نے ملت جعفریہ کی علمی مراکز میں تعداد کی کمی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی علمی مراکز میں ہماری موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علمی حلقوں میں باقی ہماری اقتداء کریں کیونکہ ہم باب علم کے ماننے والے ہیں،حضرت علی علیہ السلام کے ماننے والوں کو زیب نہیں دیتا کہ علمی میدان میں باقیوں سے پیچھے رہیں اور علمی میدان میں پیشرفت ہی پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے۔

بزرگ عالم دین علامہ افتخار نقوی کا کہنا تھا کہ حوزہ علمیہ قم محد علم ہے کوشش کریں یہاں سے واپس پاکستان آجائیں اور قوم کی خدمت کریں کیونکہ ملک علمی فقر کی بحرانی کیفیت میں ہے اور ہماری عوامی فضاء جاہلوں سے بھی بدتر جہالت کی طرف گامزن ہے، پاکستان میں علماء کام کر رہے ہیں لیکن تعداد کم ہے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حوزہ علمیہ قم سے فارغ التحصیل ہو کر یا تبلیغی فرائض سرانجام دینے کے لئے جانے والوں میں سے ہر کسی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی اچھے مدرسے میں لگ جائے کہاکہ مدرسہ ایک عمارت کا نام نہیں ہے فرد کا نام ہے، نجف کے علماء جب آیت اللہ بن کے آتے تھے تو کیا وہ کفایہ پڑھاتے تھے؟ وہ اپنے محلے کی مسجد میں جاتے اور لوگوں کو جمع کرتے اور تبلیغ کیا کرتے تھے،ہمارے مدارس کو بھی چاہئے کہ مدرسے میں بزرگوں کے حالات زندگی کو نصاب میں شامل کریں اور طالب علموں کو پڑھائیں گذشتہ علمائے کرام کی زندگی محنت پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب میں ملتان آیا تو محلہ شیعوں کا تھا لیکن نمازی بہت کم تھے ،لیکن آہستہ آہستہ جوانوں کو جمع کیا اور تبلیغ شروع کی اور بزرگان آئے اور ہماری تشویق کی،بزرگ علماء ہمیشہ چھوٹے طلباء کو اہمیت دیتے تھے ہم اپنی طرف سے جو خلاء ہے اس کو پر کرنے کی کوشش کریں نتیجہ اللہ پر چھوڑیں،افسوس کے ساتھ کہتا ہوں مساجد آج بھی خالی ہیں تبلیغ کا اصل مورچہ مسجد ہے اور مسجد سے ہی مدرسہ بنتا ہے،جو کام مسجد سے کرسکتے ہیں وہ مدرسہ میں نہیں کرسکتے،ہمیں سوچنا چاہئے کہ جن کا مال ہم کھارہے ہیں کیا ہم ان کا حق بھی ادا کررہے ہیں؟